جیسا کہ نام، ای میل، پتہ وغیرہ جس کے ذریعے ہم آپ کو تمام تازہ کاریوں سے أگاہ رکھتے ہیں ہرارے دھرتی نیوز پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا، میچ پاکستانی وقت کے مطابق دن دو بجے شروع ہوگا۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز تین میچوں پر مشتمل ہے۔سیریز کے تینوں میچ ہرارے میں ہی کھیلے جائیں گے اور کورونا کے پیش نظر تماشائیوں کو گراؤنڈ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ٹی 20 سیریز کے بعد دونوں ٹیموں میں دو میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیز یز بھی کھیلی جائے گی۔پاکستان کی جانب سے تین میچوں کی سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دئیے جانے کا امکان ہے۔شاہین شاہ آفریدی کی جگہ نئے فاسٹ باؤلرز کو شامل کیا جاسکتا ہے۔
ہرارے ٹیسٹ کے تیسرے دن جب کھیل ختم ہوا تھا تو ڈریسنگ روم کی طرف واپس جاتے ہوئے پاکستانی کھلاڑی زمبابوے کی اس آخری وکٹ کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ جو ان کی جیت کی راہ میں حائل ہوگئی تھی۔ کچھ کھلاڑیوں کے ذہنوں میں اس ایک وکٹ کے بارے میں مختلف خیالات چل رہے تھے۔ کپتان بابراعظم چوتھے دن اس آخری وکٹ کو جلد سے جلد حاصل کر کے ٹیسٹ میچ کو اس کے منطقی انجام پرپہنچانے کے لیے بے چین تھے۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے لیے یہ آخری وکٹ اس لیے اہم تھی کہ وہ اسے حاصل کر کے اننگز میں پانچ وکٹوں کی قابل ذکر کارکردگی کے ساتھ نمایاں ہو جانے تھے۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے تابش خان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ چوتھے دن انھیں بولنگ مل جائے اور وہ اس آخری وکٹ کو حاصل کر کے زمبابوے کی اس دوسری اننگز میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر سکیں۔ اور زمبابوے کی یہ آخری وکٹ بالآخر شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں آ گئی جنھوں نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے تین بولرز نے کسی ٹیسٹ میچ میں اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اس نوعیت کا چھٹا موقع ہے۔ چوتھے دن جب کھیل شروع ہوا تو پاکستانی ٹیم کو اس آخری وکٹ کے حصول کے لیے چھ اوورز کا انتظار کرنا پڑا۔ لیوک جونگوے 37 رنز بناکر شاہین آفریدی کی گیند پر وکٹ کیپر محمد رضوان کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے اور پاکستان نے اننگز اور 147 کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کر دی۔ یہ بھی پڑھیے پاکستان نے زمبابوے کے خلاف یہ سیریز دو صفر سے جیتی۔ اس نے پہلا ٹیسٹ بھی اننگز اور 116 رنز کے واضح فرق سے جیتا تھا۔ دوسرے ٹیسٹ کے قابل ذکر کھلاڑی ہرارے میں کھیلے گئے اس دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 510 رنز بنائے۔ اوپنر عابد علی جن پر ایک بڑی اننگز پچھلے کچھ میچوں سے قرض تھی شاندار ڈبل سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اظہرعلی نے بھی تین ہندسوں کی اننگز داغی لیکن سب سے خوشگوار حیرت لیفٹ آرم سپنر نعمان علی کی طرف سے دیکھنے میں آئی جنھوں نے نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 97 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں پانچ چھکے اور نو چوکے شامل تھے۔ اس اننگز میں ان کی پہلی غلطی ہی آخری ثابت ہوئی اور ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی ناکام کوشش کے بعد وہ بروقت اپنا پیر کریز میں نہ لا سکے اور اسٹمپڈ کی صورت میں انھیں اپنی وکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ نعمان علی نے عابد علی کے ساتھ آٹھویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی 169 رنز کا اضافہ کیا۔یہ شراکت اس لیے بھی اہم رہی کیونکہ اظہرعلی کے آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر بیٹنگ نے ہچکولے کھائے اور تین اہم بیٹسمین بابراعظم، فواد عالم اور محمد رضوان جلد پویلین لوٹ گئے تھے۔ پاکستانی بولرز نے زمبابوے کی پہلی اننگز صرف 132 رنز پر سمیٹ دی جس میں نمایاں کردار حسن علی کا رہا جنھوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے صرف 27 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ حسن علی جب سے ٹیم میں واپس آئے ہیں ان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور وہ چھ اننگز میں چار مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں میزبان ٹیم کی طرف سے مزاحمت دیکھنے میں آئی اور اس نے سیریز میں پہلی بار دو سو رنز کو عبور کیا جس کی بڑی وجہ وکٹ کیپر ریگس چکبوا کی 80 رنز کی اہم اننگز تھی۔ کپتان برینڈن ٹیلر ایک رن کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔ان دونوں کو آؤٹ کرنے کے بعد پاکستانی بولرز کے لیے راستہ کھلتا چلا گیا اور وہ ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کرتے گئے۔ نعمان علی نے اپنے چوتھے ٹیسٹ میں دوسری مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ شاہین شاہ آفریدی نے کھیل کے آخری حصے میں اپنی خطرناک یارکر کے ذریعے لگاتار دو گیندوں پر وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیوک جونگوے اور آخری بیٹسمین بلیسنگ موزاربانی 30گیندیں کھیل کر میچ کو چوتھے دن تک لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ بابراعظم کی صرف نو گیندوں کی سیریز Getty Images پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اگرچہ بابراعظم کی قیادت میں پہلی بار ملک سے باہر ٹیسٹ سیریز جیتی لیکن بحیثیت بیٹسمین یہ سیریز ان کے لیے بڑی مایوس کن رہی۔ پاکستانی ٹیم نے دونوں ٹیسٹ اننگز کے فرق سے جیتے جس کی وجہ سے بابراعظم کو صرف دو بار بیٹنگ کا موقع ملا اور دونوں بار وہ ڈبل فگرز میں آنے سے پہلے ہی آؤٹ ہوگئے۔ پہلے ٹیسٹ میں وہ پہلی ہی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئے تھے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں وہ آٹھ گیندوں پر دو رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ تابش خان کا مستقبل؟ فواد عالم کے بعد جس دوسرے کرکٹر کو ٹیسٹ میں موقع نہ ملنے پر سب سے زیادہ عوامی ردعمل سامنے آتا رہا تھا وہ فاسٹ بولر تابش خان تھے جو ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل مزاجی سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن 2002 سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے تابش خان کو 19 سال کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد اب ٹیسٹ کھیلنے کا موقع مل سکا ہے تاہم اب ان کی عمر36 سال سے زیادہ ہوچکی ہے جس میں فاسٹ بولر کا انٹرنیشنل کریئر زیادہ طویل نظر نہیں آیا کرتا۔ تابش خان پہلی اننگز میں ایک ہی وکٹ حاصل کر سکے جو انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں حاصل کی تاہم دوسری اننگز میں وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ تابش کی عمر اور اپنے ڈیبیو پر غیرمعمولی کارکردگی نہ ہونے کو پیش نظر رکھ کر اسوقت جو تجزیے اور تبصرے ہورہے ہیں اس میں یہی سوال سب سے اہم ہے کہ کیا وہ دوبارہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے یا پھر پاکستان کی طرف سے جن 43 کھلاڑیوں نے صرف ایک ٹیسٹ کھیلا ہے ان میں ایک اور نام کا اضافہ ہوجائے گا؟

پاکستان بمقابلہ زمبابوے، پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا، میچ کتنے بجے شروع ہوگا؟ آپ بھی جانیں

وہ اس ویب سائٹ کی خدمات میں بہتری کے حصول کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔ ہم تمام سامعین کے بارے میں نجی معلومات حاصل کرتے ہیں.

20
بنگلہ دیش بمقابلہ زمبابوے پہلے ٹی 20 میچ کا حیران کن نتیجہ سامنے آگیا
ویب سائٹ کے ذریعے سے جو ہم ڈیٹا حاصل کرتے ہیں
پاکستان بمقابلہ زمبابوے, پہلے ٹیسٹ میچ کا نتیجہ سامنے آگیا
لاہور دھرتی نیوز پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میںزمبابوے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو 19رنز سے شکست دے کر سیریز ایک ،ایک سے برابر کرلی ۔زمبابوے نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20اوورز میں 118رنز بنائے لیکن جواب میں پاکستانی ٹیم مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکی اور محض99سکور بنا کر آوٹ آل آوٹ ہو گئی ،بابراعظم کے علاوہ کوئی بھی بلے باز پچ پر کھڑا نہ ہو سکا ۔ تفصیل کے مطابق پاکستان نے ٹاس جیت کر زمبابوے کو بیٹنگ کی دعوت دی اور فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جس پر زمبابوے نے 9وکٹوں کے نقصان پر مقررہ 20اوورزمیں 118رنز بنائے۔زمبابوے کی جانب سے تناشانے اور برینڈین ٹیلر نے میدان میں اتر کر کھیل کا آغاز کیا لیکن برینڈن صرف پانچ رنز ہی بنانے میں کامیاب ہوئے اور پولین لوٹ گئے جبکہ اوپننگ پر آنے والے تناشے 34 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ ان کے علاوہ رجیس نے 18 ، ویسلے نے 16 اور تاریسائی نے 13 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے محمد حسنین اور دانش عزیز نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ فہیم اشرف، ارشداقبال ، حارث روف اور عثمان قادر نے ایک ایک کھلاڑی کو پولین پہنچایا۔ پاکستان کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ کاآغاز محمد رضوان اور بابراعظم نے کیا ، وکٹ کیپر بیٹسمین اس مرتبہ گزشتہ میچ کی طرح کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور صرف 13 رنزبنا کر ہی پولین لوٹ گئے جبکہ ان کے بعد فخر زمان میدان میں آئے لیکن صرف دو رنزہی بنانے میں کامیاب ہوئے۔ محمد حفیظ پانچ رنز بنا کر کیچ آ و ٹ ہو گئے۔بابراعظم 41سکور بنا کر کیچ آوٹ ہوئے۔ آصف علی ایک بار پھر مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک سکور بنا کر آوٹ ہوئے۔دانش عزیز 21سکور بنا کر رن آوٹ ہوئے۔قومی ٹیم مقررہ 20ویں اوور میں 99کے مجموعی سکورپر آل آوٹ ہو گئی ۔زمبابوے کی جانب سے لیوک جونگوے نے چار،ریان برل نے دو جبکہ مذربانی اور رچرڈ گاروا نے ایک ،ایک وکٹ حاصل کی ۔
پاکستان بمقابلہ زمبابوے, پہلے ٹیسٹ میچ کا نتیجہ سامنے آگیا
زمبابوے محدود اوورز کی سیریز کے لئے پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچز ہوں گے۔ میزبان زمبابوے کے خلاف سیدھے پسندیدہ انتخاب کا آغاز کرے گا۔ سیاحوں کے خلاف ون ڈے سیریز میں بابر اعظم کے بطور کپتان کی حکمرانی کا آغاز بھی ہوا تھا ، جس کو پی سی بی نے مئی میں مقرر کیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں - پی اے سی بمقابلہ ضیم ڈریم 11 ٹیم پیشن گوئی زمبابوے ٹور آف پاکستان 2020: راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں آج کا پاکستان بمقابلہ زمبابوے یکم ون ڈے کے لئے کپتان ، نائب کپتان ، فینٹسی پلےنگ ٹپس ، ممکنہ الیون کا 30 اکتوبر جمعہ برینڈن ٹیلر ڈبلیو کے ، شان ولیمز ، سکندر رضا ، کریگ اروین ، ایلٹن چیگمبورا ، چمو چبھاھا سی ، برائن چری ، ریان برل ، ٹنڈائی چٹارا ، کارل ممبا ، ڈونلڈ ٹریپانو ، ویسلے مدھیویر ، ٹنڈائی چیسورو ، فراز اکرم ، تیناشیو کامونو۔ ، ویلنگٹن ماساکاڈا ، رچمنڈ مطمبامی ، نعمت مزاربانی ، رچرڈ نگاراوا ، ملٹن شمبا۔
Getty Images پاکستان اور زمبابوے کے درمیان تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا میچ بدھ کے روز ہرارے میں کھیلا جا رہا ہے۔ زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے محمد رضوان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا۔ اب سے کچھ دیر پہلے تک پاکستان نے چار اوورز کے اختتام پر 21 رنز بنائے تھے اور اس کا ایک کھلاڑی آوٹ تھا۔ آوٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان بابر اعظم تھے جو صرف دو رنز بنا کر بلیسنگ مزربانی کی گیند پر کیچ آوٹ ہو گئے۔ اس وقت کریز پر محمد رضوان اور فخر زمان موجود ہیں۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان اب تک 14 انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے ہیں اور ان تمام میں پاکستان نے فتح حاصل کی ہے۔ یہ بھی پڑھیے اس سیریز کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کے مایہ ناز نوجوان بلے باز بابر اعظم کو انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میں تیز ترین 2000 رنز مکمل کرنے کے لیے 60 رنز درکار ہیں اور اگر وہ یہ ساتھ رنز اپنی اگلی چھ اننگز میں مکمل کر لیتے ہیں تو وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں تیز ترین دو ہزار رنز مکمل کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی سے بھی پہلے وہ یہ اعزاز اپنے نام کرنے والے بلے باز ہوں گے۔ جبکہ دورسی جانب زمبابوے کے ولیمز انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے دوسرے زمبابوے کے بلے باز بننے سے صرف 73 رنز کی دوری پر ہیں۔ یہاں کھیلا گیا آخری ٹی ٹوئنٹی جولائی 2018 میں انٹرنیشنل ٹرائی سیریز کا فائنل تھا جس میں پاکستان نے 184 رنز کا ہدف حاصل کر کے آسٹریلیا پر فتح حاصل کی تھی۔ رواں سیریز میں زمبابوے کو برینڈن ٹیلر اور کریگ ایرون کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی جو افغانستان کے خلاف سیریز میں دستیاب نہیں تھے۔ ان دونوں تجربے کار بلے بازوں کی واپسی سے زمبابوے کی بیٹنگ لائن کو خوب استحکام ملے گا۔ آئندہ چند روز ہرارے میں موسم معتدل رہنے کا امکان ہے۔ ہرارے سپورٹس کلب کی وکٹ بڑے اہداف کے تعاقب میں سازگار ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان تین ٹی20 میچز بالترتیب 21، 23 اور 25 اپریل کو ہرارے میں کھیلے جائیں گے اور سٹیڈیم میں شائقین کو داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ٹی20 سیریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔ Getty Images زمبابوے کے سکواڈ میں شان ولیمزن کپتان ، ریان برل، ریگس چکابوا، تناکا چیوانگا، کریگ ارون، لیوک جونگوے، تناشے کمن ہکاموے، ویزلے میڈھویرے، تدی وانشے مرومانی، ویلنگٹن مساکاڈزا، تپیوا مفودزا، بلیسنگ مزربانی، رچرڈ نگاروا، برینڈن ٹیلر اور ڈونلڈ تریپانو شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سکواڈ میں بابر اعظم کپتان ، محمد رضوان، فخر زمان، محمد حفیظ، حیدر علی، آصف علی، فہیم اشرف، محمد نواز، حسن علی، عثمان قادر، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور محمد حسنین شامل ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک گِری پڑی ٹیم کو اگر ایک قابلِ اعتماد بلے باز اور ایک کاٹ دار بولر میسر آ جائے تو پوری ٹیم کی ہئیت بدل جاتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ باصلاحیت کھلاڑی اپنے اردگرد اننگز بُننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ زمبابوے کو بلیسنگ مزربانی کی شکل میں ایک ایسا ہی تیکھا بولر میسر آ چکا ہے جو اپنی صلاحیت سے کھیل کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اکیلے مزربانی کب تک بدل لیں گے اور کتنا؟ پہلے روز ابتدائی بریک تھرو انھوں نے ہی فراہم کیا مگر سُست رو وکٹ پہ دیگر ساتھیوں کی طرف سے کوئی خاص سہارا ملتا نہ دکھائی دیا۔ عابد علی اور اظہر علی کی شراکت داری محتاط طریقے سے بڑھتی چلی گئی اور دھیرے دھیرے پاکستان میچ پہ حاوی ہوتا چلا گیا۔ لیکن شام کے سیشن میں جب نیا گیند میسر آ گیا تو مزربانی ایک بار پھر اپنی کاٹ کے ساتھ واپس آئے اور اوپر تلے تین وکٹیں گرا کر میچ کا مومینٹم کسی حد تک زمبابوے کے حق میں پلٹا دیا۔ یہ امید بھی جاگ اٹھی کہ زمبابوے پاکستان کو چار سو رنز کے مجموعے تک نہ پہنچنے دے گا۔ دوسرے روز صبح کے سیشن میں بھی مزربانی نے سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں گذشتہ شام ٹوٹا تھا۔ یہ کہنے میں عار نہیں کہ پہلے سیشن میں مزربانی اور نگروا کا ابتدائی سپیل سست وکٹ پہ اچھی فاسٹ بولنگ کا عملی نمونہ تھا۔ لیکن نائٹ واچ مین ساجد علی نے انھیں تھکا ڈالا۔ ٹیسٹ میچ کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ اس میں ایک نہیں، کئی ایسے لمحے آ جاتے ہیں جب کمزور ٹیم کے پاس پورا موقع ہوتا ہے کہ وہ اگر دو گھنٹے بہترین کرکٹ کھیل لیں تو میچ میں واپس آ سکتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیے زمبابوے کو صبح کے مایوس کن سیشن کے بعد پھر ایک ایسا ہی لمحہ میسر آیا جب مختصر سے دورانیے میں انھیں ساجد علی، محمد رضوان اور حسن علی کی وکٹیں مل گئیں۔ وہاں زمبابوے کے پاس موقع تھا کہ پاکستانی اننگز کے آگے بند باندھ دیتے اور مقابلے کو ایسا یکطرفہ نہ ہونے دیتے۔ لیکن بعض اوقات کشتی وہیں ڈوبتی ہے جہاں پانی کم ہو۔ نعمان علی کسی بھی لحاظ سے زمبابوین بولرز کے لیے متوقع خطرہ نہیں تھے۔ اصل الجھن تو عابد علی بنے ہوئے تھے جو کسی بھی طور سے اپنی وکٹ نہ دینے پہ اڑے ہوئے تھے۔ مگر طرفہ تماشا دیکھیے کہ جہاں متوقع تھا، عابد علی اننگز کا چارج سنبھالیں گے اور دوسرے اینڈ کے لوئر آرڈر بلے بازوں کو سہارا فراہم کریں گے، وہاں نعمان علی ہی سب سے بڑی الجھن بن گئے۔ جس برق رفتاری سے نعمان علی نے پاکستانی اننگز کو آگے بڑھایا، وہ پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے سیر حاصل تفریح بن گئی۔ دوسری جانب یہی اننگز برینڈن ٹیلر کے بولرز کے لیے اذیت کا سبب بن گئی کہ نعمان علی نے کسی بھی لمحے مدافعانہ انداز اختیار ہی نہ کیا۔ پاکستان کی اس پوری اننگز میں چھ چھکے شامل تھے جن میں سے پانچ نعمان علی کے بلے سے نکلے۔ جب میچ پہ کسی ٹیم کی گرفت اتنی بڑھ جائے تو پھر اس کے پاس اختیار آ جاتا ہے کہ وہ اپنے حریف کو تھکا تھکا کر مارے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں شام کا سیشن عموماً بلے بازی کے لیے مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ دھیمی پڑتی روشنی میں دن بھر کی دھوپ خوردہ وکٹ پہ اپنے سٹمپس کا دفاع اکثر کارِ دشوار ثابت ہوا کرتا ہے۔ بالخصوص جب مخالف بولنگ اٹیک اس قدر تغیر سے معمور ہو جو پاکستان کو حاصل ہے۔ زمبابوین بلے بازوں نے گرتے پڑتے کچھ نہ کچھ ساکھ بچانے کی کوشش تو کی لیکن پاکستانی بولنگ کی کاٹ اور ڈھلتے سورج کے سائے یوں آڑے آئے کہ پہلے تیس اوورز میں ہی عملی طور پہ آدھی زمبابوین اننگز نمٹ گئی۔ دوسرے ٹیسٹ میں دوسرے روز کے اختتام تک پاکستان نے 510 رنز اور آٹھ وکٹوں کے نقصان پر اننگز ڈکلیئر کی اور اس کے جواب میں زمبابوے کو محض 52 رنز پر چار وکٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ تابش خان اور ساجد علی نے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹیں حاصل کی ہیں اور باقی دو وکٹیں حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی کے نام ہوئی ہیں۔ اب فقط ناگزیر کے انتظار کو طول دینے کی کوشش ہوتی رہے گی۔ گویا شکست طے ہو چکی، فقط اعلان باقی ہے۔
ہرارے ڈیلی پاکستان آن لائن بنگلہ دیش نے پہلے ٹی 20 میں زمبابوے کو آٹھ وکٹوں سے شکست دیدی۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے 153 رنز کا ہدف باآسانی دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔زمبابوے کی ٹیم نے پہلے بیٹںنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 152 رنز بنائے تھے۔زمبابوے کی جانب چکباوا 43 اور مائر 35 رنز بناکر نمایاں رہے۔بنگلہ دیش کی جانب سے مستفیض الرحمن نے تین جبکہ سیف الدین اور شریف الاسلام نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے 153 رنز 19ویں اوور میں مکمل کیے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے محمد نعیم 63 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ سومیا ساکر نے 50 رنز بنائے۔بنگلہ دیش کے دونوں بلے باز ن دوسرے ون ڈے میچ میں زمبابوے کے خلاف پاکستان کی فتح پر ٹویٹر صارفین نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ کچھ ٹویٹس ملاحظہ ہوں۔ قومی کرکٹر فخر زمان نے ٹویٹ کیا : میں ایک اور سنچری بنانے پر اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں۔ سینئر صحافی عبدالغفار نے ٹویٹ کیا : پاکستان نے ایک اور فتح حاصل کر لی ہے لیکن ہمیں 2019 کے ولڈکپ کے لیے زیادہ بہتر تیاری کی ضرورت ہے۔ مظہر ارشاد نے ٹویٹ کیا : 32 ون ڈے میچز میں 66 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد حسن علی اپنے کیرئیر کے اس سٹیج پر سب سے تیز ترین بولر ہیں۔ شین بونڈ نے بتیس میچوں میں 64 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ عماد حمید نے کہا : فخرزمان سنچری بنانے کا وعدہ نبھانے کا شکریہ ۔ جواد کے مطابق میچ کا سب سے دلچسپ لمحہ بابر اعظم کا کور ڈرائیو تھا۔ احمر نجیب کا کہنا ہے : میں پاکستان کے اس پورے دورے میں شاداب کی بولنگ سے متاثر نہیں ہوا۔ شاداب کو اپنے لیگ اسپنر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کئیا پارمر نے ٹویٹ کیا : مجھے زمبابوے کرکٹ کی صورتحال ہضم نہیں ہو رہی ، میں نے انہیں بہترین کھلاڑی سامنے لاتے دیکھا ہے اور نوے کی دہائی میں یہ ٹاپ ٹیموں میں شامل تھے۔ ٹیم کی موجودہ صورتحال دنیاۓ کرکٹ کے لیے ایک الارمنگ صورتحال ہے اور آئی سی سی کو زمبابے میں کرکٹ کے فروغ بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔

پاکستان بمقابلہ زمبابوے: زمبابوے کا ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ، بابر اعظم دو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے

.

27
پاکستان بمقابلہ زمبابوے: دوسرے ٹیسٹ کا ’گویا نتیجہ طے ہو چکا، بس اعلان باقی ہے‘
پاکستان بمقابلہ زمبابوے: دوسرے ٹیسٹ کا ’گویا نتیجہ طے ہو چکا، بس اعلان باقی ہے‘
پاکستان بمقابلہ زمبابوے ،دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کا حیران کن فیصلہ آگیا

پاکستان بمقابلہ زمبابوے: زمبابوے کا ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ، بابر اعظم دو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے

.

پاکستان بمقابلہ زمبابوے ، پاکستان نے زمبابوے کو ایک اننگ اور 116 رنز سے شکست دے دی
بنگلہ دیش بمقابلہ زمبابوے پہلے ٹی 20 میچ کا حیران کن نتیجہ سامنے آگیا
پاکستان بمقابلہ زمبابوے ،دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کا حیران کن فیصلہ آگیا